کہہ دینا اسے ایسے ہی بیکار نہ آئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاکہہ دینا اسے ایسے ہی بیکار نہ آئے
قسمت کا مری بن کے خریدار نہ آئے
اس بار ملاقات محبت تو نہ ہوگی
اس بار مرا حاشیہ بردار نہ آئے
دنیا میں تو مرتے تھے مرے حسن پہ لیکن
اب حشر میں کیوں میرے طلبگار نہ آئے
سب لوگ ہوں سرگشتہ مرے سامنے اک دن
پیچے سے جو دشمن کا کوئی وار نہ ائے
لگتا ہے یہاں پھیلا ہواؤں کا جادو
دوران سفر راہ میں اشجار نہ آئے
کچھ روز میں ہوجائے گا بند آنکھ کا چشمہ
پینے مری آنکھوں سے جو میخوار نہ آئے
ویسے تو خیالوں میں ترا راج ہے وشمہ
غزلوں میں ترے نام کے اشعار نہ آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






