کہیں مفلسی کہیں مدھوشی یہ حرارتیں بھی بہت ہیں
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiکہیں مفلسی کہیں مدھوشی یہ حرارتیں بھی بہت ہیں
خارج از بحث یوں سخی شرارتیں بھی بہت ہیں
تیری منزلیں اگر کہیں قابل فہم لگیں تجھے
تو رسائی لیئے خیالوں کی وسعتیں بھی بہت ہیں
سبھاؤ سے اکثر صوُرتیں ابھرتی ہیں سبھی
ورنہ چہروں کے پیچھے بے مروتیں بھی بہت ہیں
گہری ہے یہ دنیا سوچنا الجھاؤ نہ آ ٹھہرے کبھی
ارد گرد زمانے کی دیکھو رفاقتیں بھی بہت ہیں
سنجوگ تو بس ایک حادثے کے سواء کچھ بھی نہیں
میری تقدیر میں واللہ رکاوٹیں بھی بہت ہیں
کسی کو تشویش دکھ تو کسی نے آرزو کی اپنی
یہاں بتوُں کے آگے بیوستہ عبادتیں بھی بہت ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






