کہیں کوئ بات
Poet: Bakhtiar nasir By: Bakhtiar Nasir, Lahoreفرقتوں کی بات تو ہو
اس سے ملاقات تو ہو
وہ آ کے پھر توڑ دے
دل مثل سومنات تو ہو
رات کی رانی مہکتی رہے
یادوں کی بارات تو ہو
رنگوں میں وہی رنگ چاہوں
میری گزر اوقات تو ہو
میرے افق پہ وہ تارا چمکے
حسین یہ کائنات تو ہو
دن کا اجالا کب پھیلے گا
ختم اندھیری رات تو ہو
میں کیسے کنارہ کر لوں
یاد سے نجات تو ہو
سر تسلیم خم کر لیں گے
وہ مائل بہ آفات تو ہو
ہم بکھر جائیں گے ناصر
کہیں کوئ بات تو ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






