کہ کوئی ابھی سویا ہیں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaاے آفتاب آج زرا
دیر سے آنا
کہ کوئی ابھی
سویا ہیں
چہکہتے پرندوں زرا
دہیرے چہکچاناں
کے کوئی ابھی
سویا ہیں
روشن کرنوں
آج مدہم آنا
کے کوئی ابھی
سویا ہیں
بہیت دن سے
تھکا ہوا
کئی راتوں سے
جگا ہوا
کچھ سوالوں میں
الجھا ہوا
کچھ رشتوں میں
بٹا ہوا
کسی کے پیار میں
رنگاں ہوا
اپنی سوچ میں
ڈوبا ہوا
کسی کی
رو میں
سمویاں ہوا
کہ کوئی ابھی
سویا ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






