کیا بات سناؤں میں اُس کی اب بات پرانی رہی نہیں
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaمیں اُس کا راجہ رہا نہیں وہ میری رانی رہی نہیں۔
کیا بات سناؤں میں اُس کی اب بات پرانی رہی نہیں۔
ہم ملتے تھے جس باغ میں وہ باغ ویرانوں میں دن گیا
میری طرح باغ بھی اُجڑے کوئی باقی نشانی رہی نہیں۔
عشق و عشرت کے دن گئے پہلے جیسا جنون نہیں اب
اُس کے بال سفید ہوئے مجھ پے بھی جوانی رہی نہیں۔
شعر و شاعری میں بیان ہوتی تھی پیار کی باتیں سب
اب بات یاد رہتی نہیں زبان میں بھی روانی رہی نہیں۔
رہا ترے وصل کا آرزو مند میں جتنے سال بھی جیا
کیسے دؤں گنوائی اپنے حالات کی زندہ زندگانی رہی نہیں۔
حویلی دل کی کیسے نہ لُٹتی اب تُم ہی کوئی جواب دو
خواہش بے چادر پڑی رہی دل کی کوئی نگرانی رہی نہیں۔
دل کے سب ورکوں کو ترے غموں سے سیاہ کیا میں نے
میں نے لکھ دیا ہر راز دل پے اب بات زبانی رہی نہیں۔
چھوڑو کیا کرنا سُن کے وہ وقت کے ساتھ بیت گئی نہال
کیا کرنا سُن کے وہ کہانی یار جو اب کہانی رہی نہیں۔
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






