کیا بتائیں اس میں ہمیں۔کیا خوب کیا اچھا لگا۔۔۔۔
Poet: UA By: UA, Lahoreکیا بتائیں اسمیں ہمیں کیا خوب کیا اچھا لگا
کیوں بھلا وہ بے وفا ہم کو بہت اچھا لگا
بےنیازی ،سادگی، گم رہنا اپنی ذات میں
بس یہی کچھ ہے کہ جو ہم کو بہت اچھا لگا
دور سے دیکھا تو وہ اک نور کی لکیر تھا
نزدیک جو آیا تو گویا نور کا منبع لگا
روشن تبسم لہجے میں خوشبو کا رنگ رچا ہوا
گفتگو کا بانکپن آداب میں یکتا لگا
وہ مہرباں وہ بے وفا سب سے جدا جدا لگا
بےوفائی بھی کرے تو بےوفا لگتا نہیں
جو ستم کرتا ہے وہ کرتا ہے مہر سے حسیں
اس کا ہر انداز ہر اک وار ہی بھلا لگا
جب ملا وہ بےوفا، وہ بےوفا نہیں لگا
غیر ہو کہ بھی ہمیں ہر بار وہ اپنا لگا
کیا بتائیں اسمیں ہمیں کیا خوب کیا اچھا لگا
کیوں بھلا وہ بے وفا ہم کو بہت اچھا لگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






