کیا بتائیں دوستو دُنیا نے توڑا کِس طرح
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہکیا بتائیں دوستو دُنیا نے توڑا کِس طرح
ریشۂِ اُمِید سے پِھر دِل کو جوڑا کِس طرح
تُم نے ماضی کو کُریدا ہے تو پِھر اِتنا کہو
زخم ہو گا مُندمِل، جائے گا پھوڑا کِس طرح؟؟
تُم نے تو حد کر ہی دی ہے ظُلم و اِستبداد کی
اِک ذرا سی بات پر دِل کو نِچوڑا کِس طرح
اپنے اپنے ظرف کی ہے بات شِکوہ کیا کریں
ہم نے پایا کِس طرح اور تُم نے چھوڑا کِس طرح
اِک تُمہارے ہِجر کی شب ہے، گُزرتی ہی نہِیں
دوڑتا ہے وصل میں لمحوں کا گھوڑا کِس طرح
کاش دِل میں نرم گوشہ رکھ کے یہ پُوچھے کوئی
وقت، زادہ کِس طرح گُزرا ہے، تھوڑا کِس طرح؟؟
اُس کی نظروں کے مُقابِل جم کے رہنا ہے مُحال
اور سمجھوتہ کرے گا دِل نِگوڑا کِس طرح
ایک طُوفاں بڑھ رہا تھا پریم نگری کی طرف
کیا بتائیں رُخ ہوا کا ہم نے موڑا کِس طرح
قُرب کو ہم نے تُمہارے جان سے رکھا عزِیز
پِھر بھی حسرتؔ بِیچ میں آیا وِچھوڑا کِس طرح
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






