کیا بتائیں دوستو دُنیا نے توڑا کِس طرح
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہکیا بتائیں دوستو دُنیا نے توڑا کِس طرح
ریشۂِ اُمِید سے پِھر دِل کو جوڑا کِس طرح
تُم نے ماضی کو کُریدا ہے تو پِھر اِتنا کہو
زخم ہو گا مُندمِل، جائے گا پھوڑا کِس طرح؟؟
تُم نے تو حد کر ہی دی ہے ظُلم و اِستبداد کی
اِک ذرا سی بات پر دِل کو نِچوڑا کِس طرح
اپنے اپنے ظرف کی ہے بات شِکوہ کیا کریں
ہم نے پایا کِس طرح اور تُم نے چھوڑا کِس طرح
اِک تُمہارے ہِجر کی شب ہے، گُزرتی ہی نہِیں
دوڑتا ہے وصل میں لمحوں کا گھوڑا کِس طرح
کاش دِل میں نرم گوشہ رکھ کے یہ پُوچھے کوئی
وقت، زادہ کِس طرح گُزرا ہے، تھوڑا کِس طرح؟؟
اُس کی نظروں کے مُقابِل جم کے رہنا ہے مُحال
اور سمجھوتہ کرے گا دِل نِگوڑا کِس طرح
ایک طُوفاں بڑھ رہا تھا پریم نگری کی طرف
کیا بتائیں رُخ ہوا کا ہم نے موڑا کِس طرح
قُرب کو ہم نے تُمہارے جان سے رکھا عزِیز
پِھر بھی حسرتؔ بِیچ میں آیا وِچھوڑا کِس طرح
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






