کیا محبت بھی مرتی ہے جاناں
Poet: Madiha Zulfiqar (self written) By: Madiha Zulfiqar, Sialkotیوں تو ہر چیز فانی ہے اس جہاں میں
مگر تم ہی سے محبت سیکھی اور تم ہی سے یہ پوچھنا ہے
کیا محبت بھی مرتی ہے جاناں
تم ہی بتاؤ۔۔ کس خیال کو جھٹکوں تمہارے
وہ تیرے ہاتھ کا لمس
تیری آنکھوں کی لہک
تیری آواز کا جادو آج بھی یاد ہے مجھے
سنو ۔۔۔۔
اب یہ نہ کہنا کہ تمہیں کچھ یاد نہیں ہے
وگرنہ پھر پوچھوں گی تم سے
کیا محبت بھی کبھی مرتی ہے جاناں ۔۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






