کیا منزل پالی تم نے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, gujranwalaہاتھوں سے ہاتھ چڑا کے ۔کیا منزل پالی تم نے
رشتہ غیر سے بنا کے۔کیا منزل پالی تم نے
جس کی تلاش تھی تمہیں جانم ! بتاؤ ذرا
مجھے خاک میں ملا کے۔کیا منزل پالی تم نے
میرے ارمانوں کے چراغوں کو ہوا دے کے
نئے دیئے بھی جلا کے۔کیا منزل پالی تم نے
کتنی بے قراری تھی تمہیں آگے گزرنے کی جاناں!
مجھے راستے میں گِرا کے ۔کیا منزل پالی تم نے
کتنی شہرت ملی تجھے اُس شاہ کی بدولت
اُس کے خزانے پا کے۔کیا منزل پالی تم نے
کتنے مان کتنے چاہو سے گلے لگایا میں نے
میری ہی سانسیں ڈبا کے۔کیا منزل پالی تم نے
وفا کر کے مجھے کچھ حاصل نہ ہوا مگر
تمہیں تھے ہنر جفا کے۔کیا منزل پالی تم نے
بد بخت تھے ہم چلو مان لیتے ہیں یہ
مجھ سے دور جا کے۔کیا منزل پالی تم نے
میرے صحراتھے پیاسے محبتوں کے مگر
نفرتوں کے بادل برسا کے۔کیا منزل پالی تم نے
باہوں میں رہنے والے بتا تو سہی مجھے
مجھ سے چہرہ چھپا کے۔کیا منزل پالی تم نے
مجھے چھوڑ کے راہِ زندگی میں اکیلا
قدم اپنے اب بڑھا کے۔کیا منزل پالی تم نے
نہال ہی تھا دیوار تری کامیابی میں شاید
مجھے غیروں سے مرواکے۔کیا منزل پالی تم نے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






