کیا نظارا تھا مجسم تھی حیا، دیکھ آیا
Poet: azharm By: Azhar, Dohaکیا نظارا تھا مجسم تھی حیا، دیکھ آیا
اُس کی آنکھوں میں جو اُترا ہوں، وفا دیکھ آیا
ہوش اب کس کو ہے، دیوانہ بنا پھرتا ہوں
اک نظر ہی میں خدا جانے میں کیا دیکھ آیا
زلف پھیلا کے کہا اُس نے کہ آو جاناں
پھر برستی ہوئی چاہت کی گھٹا دیکھ آیا
بعد ملنے کے مجھے چپ سی لگی ہے یارو
کیا تھا اُس بت میں خدا جانے، جدا دیکھ آیا
بیٹھنا پڑ تو گیا بزم کی رونق میں مگر
سب تھا بیکار کہ سب اُس کے سوا دیکھ آیا
خواب میں اُس سے بچھڑنے کا تصور اُبھرا
میں تو نزدیک سے جیسے کہ قضا دیکھ آیا
ملنے والی ہے، لگا، دولت دنیا مجھ کو
اُس کو اظہر میں رقیبوں سے خفا دیکھ آیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






