کیا کریں؟
Poet: ڈاکٹر شاکرہ نندنی By: ڈاکٹر شاکرہ نندنی, Portoلوگ ہیں سب حیران، کیا کریں؟
گم صم ہیں بھگوان، کیا کریں؟
چاروں جانب لڑائی ہے جاری
سج گیا جنگ کا میدان، کیا کریں؟
روشنی کو اب کیسے روکیں
کھلا ہے روشن دان، کیا کریں؟
جس میں کتابِ حق رکھی تھی
گُم ہے وہ جُزدان، کیا کریں؟
ہجرت کر گئے سارے کھلاڑی
خالی ہے میدان، کیا کریں؟
بیچ آنگن دیوار نہ اُٹھے
کہئیے! بھائی جان کیا کریں؟
جوں ہی اُن سے قرضہ مانگا
بن گئے وہ انجان، کیا کریں؟
جھوٹے قصے سنا رہے ہیں
ہائےیہ جھوٹی شان، کیا کریں؟
تحفہ اب کیا لے کر جائیں؟
بند ہیں سب دوکان، کیا کریں؟
برتن خالی اور جیب بھی خالی
آئے ہیں مہمان، کیا کریں؟
پوچھتے ہیں وہ خنجر تان کر
مشکل کو کرنا ہے آسان، کیا کریں؟
اُن کو جب آنا ہی نہیں ہے
سجا کر دالان، کیا کریں؟
دے دیا دل اور لُٹا دی ہے جان
اب اُن پرقربان۔ کیا کریں؟
خوش ہیں اُن سے دھوکے کھا کر
ایسے ہم نادان، کیا کریں؟
نفرت کی آندھی کیا آئی
بستی ہوئی ویران، کیا کریں؟
زرد ہیں سب کے چہرے
پھیلا ہے یرقان، کیا کریں؟
سُننا پڑتا ہے مجبوری ہے
حاکم کا فرمان، کیا کریں؟
کس کے بھروسے سکون سے سوئیں
غدار ہیں دربان، کیا کریں؟
کس کو سنائیں ہم دُکھ اپنا
جج ہیں شیطان، کیا کریں؟
اچھے دن آنے والے ہیں
ہوا ہے پھراعلان، کیا کریں؟
حیوانوں کا راج ہے ہر جانب
ایسے میں انسان، کیا کریں؟
جو منسوب تھی اُن سے نندنی
کھو گئی وہ داستان، کیا کریں؟
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






