کیا کہہ گئی کسی کی نظر کُچھ نہ پُوچھیے
Poet: By: Shahid Hasrat, Multanکیا کہہ گئی کسی کی نظر کُچھ نہ پُوچھیے
کیا کچھ ہوا ہے دل پہ اثر کچھ نہ پُوچھیے
جُھکتی ہوئی نظر سے وہ اُٹھتا ہوا سا عشق
اُف وہ نظر، وہ عشق مگر کُچھ نہ پُوچھیے
وہ دیکھنا کسی کا کنکھیوں سے بار بار
وہ بار بار اُس کا اثر کُچھ نہ پُوچھیے
رو رو کے کس طرح سے کٹی رات، کیا کہیں
مر مر کے کیسے کی ہے سَحَر، کچھ نہ پُوچھیے
حسرت دیارِ حُسن میں پُہنچے ہیں مر کے ہم
کیوں کر ہوا ہے طے یہ سفر کچھ نہ پُوچھیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






