کیا یاد آیا کہ میری یاد میں رونے لگے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaکیا یاد آیا کہ میری یاد میں رونے لگے
چھوڑ کے روشنائیاں تم برباد میں رونے لگے
تمہیں تو فرق نہیں پڑتا تھا میرے وجود سے
کیوں آج تم میرے بعد میں رونے لگے
اُدسیاں ، تنہائیاں تمہیں تو پسند نہ تھیں
کیوں تنہا آج حالتِ بے شاد میں رونے لگے
آج کی رات تو تری حسرتوں کی رات ہے
کیوں نئی خواہش نئی فریاد میں رونے لگے
گزرا وقت لوٹ کے کھبی آتا نہیں جانم!
کیوں گزری یاد بے بنیاد میں رونے لگے
بڑی مشکل سے سیکھا ہے مسکرانا پھر سے
کیوں آ کے میری زندگی آباد میں رونے لگے
کومل ہاتھوں پہ ترے مہندی بھی لگ چکی ہے
کیوں آج تم نہال بے مراد میں رونے لگے
کیا یاد آیا کہ میری یاد میں رونے لگے
چھوڑ کے روشنائیاں تم برباد میں رونے لگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






