کیسے بھول سکتا ہوں
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Dist. Gujranwala ; Nizwa, Omanوہ گزرے حسیں پل میں کیسے بھول سکتا ہوں
آنکھوں کے دریچے میں بسی خوشیاں میں کیسے بھول سکتا ہوں
مجھے تم سے زیادہ چاہت کیا کسی اور سے ہو سکتی ہے
میرے دل پر نقش صورت میں کیسے بھول سکتا ہوں
میں جب بھی بے قرار ہوتا ہوں تیری یادیں سہار لیتی ہیں
گزرے پلوں کی خوشیاں میں کیسے بھول سکتا ہوں
بہار کے موسم میں تیرا اور پھولوں کا ساتھ کتنا پُر بہار ہے
میرے اردگرد پھیلی وہ خوشبوئے محبت میں کیسے بھول سکتا ہوں
ساون تیری موجودگی سے کیسا پُر مسرت دکھائی دیتا ہے
تیری پلکوں پر ٹھہرے نمی کے قطرے میں کیسے بھول سکتا ہوں
تیرے ساتھ بیتا ہر پل انمول ہے کتنا کیسے بیان کروں
آنکھوں میں کٹی راتیں وہ بے تاب برساتیں میں کیسے بھول سکتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






