کیوں آج سانس مجھسے الجھ رہی ہے
Poet: mehak ejaz By: mehak ejaz, lahoreکیوں آج سانس مجھ سے الجھ رہی ہے؟؟؟؟
شاید پھر سے یاد وہی کہانی کر رھی ھے
انذست کی تنھا راتوں میں ہم چھت پر جایا کرتے تھے
دیکھ کر تنھا چاند کو باتوں میں لگایا کرتے تھے
ویران اجڑی راہوں میں جگنو کو تلاشہ کر تے تھے
اک روز ہمیں اک شخص ملا
تھا چاند کی طرح تنھا تنھا
سب کیلئے کچھ خاص نہ تھا
پر میرے لئے وہ عام نہ تھا
ہمیں پیار ان سے ہو گیا
اقرار ان سے ہو گیا
وہ بھی پیار ہم سے کرتا تھا
جانے کہنے سے کیوں ڈرتا تھا
ہم پیار ان سے کر تے ریے
وہ بد نام ہمکو کر تے ر ہے
محبت کی شدت سے پگھلے گا اک دن
ہم کو شش مسسل کرتے رہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






