کیوں اپنی آہ وہ دیوارں کو سنا رہے تھے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiکیوں اپنی آہ وہ دیوارں کو سنا رہے تھے
وہ رات بھوک سے بچے جو بلبلا رہے تھے
انہیں خبر ہی کہاں تھی یہ شہرِ یزداں ہے
جو اپنی پیاس کے شکوے میں روتے جا رہے تھے
اسے نماز کا سجدہ سمجھ لیا سب نے
فقیر لوگ تو محبوب کو منا رہے تھے
غریبِ شہر کی میت پہ کون آتا بھلا
امیرِ شہر جو رسمِ حنا رچا رہے تھے
عبادتوں کی طرح دل کو چین مل رہا تھا
دیارِ یار پہ جب سر کو ہم جھکا رہے تھے
وہ ہم تھے جان جو حق گوئ میں گنوا چلے تھے
یونہی تو لوگ نہیں گن ہمارے گا رہے تھے
فضاۓ شہر معطر نہ ہوتی کیوں باقرؔ
وہ میرے شہر سے گزرے تو مسکرا رہے تھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






