کیوں تم سے اتنی محبت کی جاتی ہے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکیوں محفل تنہا لگتی ہے
کیوں خوشیاں غم میں ڈھلتی ہیں
کیوں بارش چھم چھم آتی ہے
کیوں لہریں کنارے ڈھونٹتی ہیں
کیوں کوئل کھونج لگاتی ہے
کیوں تتلی پھولوں سے شرماتی ہے
کیوں کرنیں سورج کو لبھاتی ہیں
کیوں چاندنی چاند کو جگماتی ہے
کیوں ہوا بادلوں میں گنگناتی ہے
کیوں شبنم گھاس پے آتی ہے
کیوں آنکھیں حال سناتی ہیں
کیوں دھڑکین دل للچاتی ہیں
کیوں اندھری رات کو آتی ہے
کیوں خاموشیاں داستان بناتی ہیں
کیوں تمہاری ہر بات مانی جاتی ہے
کیوں تم سے اتنی محبت کی جاتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






