کیوں نہ چاہوں کہ تم سے بات کروں ۔۔۔؟
Poet: UA By: UA, Lahoreکیوں نہ چاہوں کہ تم سے بات کروں
کیوں نہ چاہوں کہ ملاقات کروں
تم کو دیکھا تو دیکھتے ہی لگا
تم وہی ہے کہ جس کے دیکھنے کو
برسوں آنکھوں نے اندھیرے دیکھے
تم وہی ہو کہ جس کی آرزو میں
دل نے پل پل ہزار درد سہے
تم وہی ہو کہ جس کی جستجو میں
میری آوارہ روح بھٹکتی رہی
تم کو دیکھا تو دل پکار اٹھا
روح کو جیسے کہ قرار ملا
سوئی آنکھوں میں روشنی جاگی
میرے اطراف میں خوشی جاگی
دل کے بنجر ویران آنگن میں
بہار آبسی ہے خزاں بھاگی ہے
جیسے ہر سو ترنگ جاگی ہے
اب ملے ہو تو کیوں میں دور رہوں
کیوں بھلا تم سے اتنی دور رہوں
کیوں نہ چاہوں کہ تم سے بات کروں
کیوں نہ چاہوں کہ ملاقات کروں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






