کیوں پیار کی بانہوں کو ہے ترسائے دسمبر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاپیغام محبت کا اگر لائے دسمبر
بہتر ہے کہ چپکے سے گزر جائے دسمبر
کیوں پیار کی بانہوں کو ہے ترسائے دسمبر
یخ بستہ زمانہ ہے مرا ،ہائے دسمبر
آ جاتا ہے نذدیک یہ چپ چاپ سمٹ کر
پیتے ہوئے دیکھوں میں اگر چائے ،دسمبر
جاتے ہوئے لے جاتا ہے سب اپنے فسانے
آئے تو بہت خواب یہ دکھلائے دسمبر
مر جائے گا اک روز یہ سردی سے لپٹ کر
ان آنکھ کی جھیلوں سے چلا جائے دسمبر
اقرارِ وفا کر کے مجھے چھوڑ نہ جائے
اے کاش کہ کچھ اور ٹھہر جائے دسمبر
وشمہ کو مری جان نیا سال مبارک
جاتے ہوئے احباب سے ملوائے دسمبر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






