کیوں کسی نے ابھی تک دلہن نہ بنایا مجھ کو
Poet: Jamshed By: Jamshed, Dubaiکیا کوئی اور بھی میری طرح اتنا تنہا ہو گی
دن میں کی بار جو خود سے لڑتی ہو گی
کہاں ہے میرے حصّے کی چاہت ربّا
بس یہی سوال خود سے وہ جو کرتی ہو گی
کون جانے گا آ کے میرے اندر کا یہ حال
ہر وقت وہ خود سے ایسی باتیں کرتی ہو گی
کیوں کوئی شخص نہ ابھی تک ہے بھایا مجھ کو
بہت مان سے کسی نے کیوں نہ اپنایا مجھ کو
اپنے ہاتھوں سے پیار سے کیوں نہ کھلایا مجھ کو
تھکن سے چور کر کے پھر کیوں نہ سلایا مجھ کو
کیا کمی مجھ میں جو ہوئی کئی بار میں رد
کیوں کسی نے ابھی تک دلہن نہ بنایا مجھ کو
میرے الله ، میرے مالک، میری فریاد تو سن
باتیں لوگوں کی ، بڑھتی عمر اور ماں باپ کی چپ
نہ سہی جائیں مجھ سے کہ بہت مجبور ہوں میں
دے حوصلہ ، نکال راستہ اور بیاہ دے مجھ کو
بچا مجھ کو مردوں کی ہوس بھری نظروں سے ... یا پھر
میرے ربّا ! اپنے پاس تو بلا لے مجھ کو
توڑ دے میرے جسم سے میری روح کا ناتا
نہ جیا جائے بس اب تو اٹھا لے مجھ کو
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






