کیوں کسی نے ابھی تک دلہن نہ بنایا مجھ کو
Poet: Jamshed By: Jamshed, Dubaiکیا کوئی اور بھی میری طرح اتنا تنہا ہو گی
دن میں کی بار جو خود سے لڑتی ہو گی
کہاں ہے میرے حصّے کی چاہت ربّا
بس یہی سوال خود سے وہ جو کرتی ہو گی
کون جانے گا آ کے میرے اندر کا یہ حال
ہر وقت وہ خود سے ایسی باتیں کرتی ہو گی
کیوں کوئی شخص نہ ابھی تک ہے بھایا مجھ کو
بہت مان سے کسی نے کیوں نہ اپنایا مجھ کو
اپنے ہاتھوں سے پیار سے کیوں نہ کھلایا مجھ کو
تھکن سے چور کر کے پھر کیوں نہ سلایا مجھ کو
کیا کمی مجھ میں جو ہوئی کئی بار میں رد
کیوں کسی نے ابھی تک دلہن نہ بنایا مجھ کو
میرے الله ، میرے مالک، میری فریاد تو سن
باتیں لوگوں کی ، بڑھتی عمر اور ماں باپ کی چپ
نہ سہی جائیں مجھ سے کہ بہت مجبور ہوں میں
دے حوصلہ ، نکال راستہ اور بیاہ دے مجھ کو
بچا مجھ کو مردوں کی ہوس بھری نظروں سے ... یا پھر
میرے ربّا ! اپنے پاس تو بلا لے مجھ کو
توڑ دے میرے جسم سے میری روح کا ناتا
نہ جیا جائے بس اب تو اٹھا لے مجھ کو
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






