کیوں ہے؟؟؟
Poet: Asif By: Farrukh, Lahoreدل جو سینے میں دھرکتا ہے،سُلگتا کیوں ہے؟
جانے انجاے یہ اس طرح ترپتا کیوں ہے؟
وہ مجھہے بھول گیا بھول گیا
دلِ گستاخ اُس کی یاد میں روتا کیوں ہے؟
رکھ دے ہاتھ میرے دل پہ تو کچھ سکون ملے
جانے اُن ہاتھوں کی تپش میں یہ جادو کیوں ہے؟
آؤ صحراؤں میں کچھ دیر میرے ساتھ چلو
تم بھی جانو گے کہ دل میرا یہ پیاسا کیوں ہے؟
اب تو آنسوں بھی سُلگتے ہیں انگاروں میں
اور کہتے ہو کہ اِن آنکھوں میں لالی کیوں ہے؟
میخانے سے گُزرتا ہوں تو گُزر جاتا ہوں
نہ جانے بِن پیے ہی دل میرا بھوجل کیوں ہے؟
بوقتِ رُخصت جو پلایا تھا جام نظروں سے
اب کہتے ہو کے عاشق یہ شرابی کیوں ہے؟
دل بھرتا ہی نہیں مدح سرائی سے جِنکی
نہ جانے تڑپ سے میری وہ غافل کیوں ہیں؟
میں نہ کرتا تھا باتیں کبھی دیواروں سے
نہ جانے پھر یہ میرے درد سے واقف کیوں ہیں؟
بے طلب بخشا ہے رب نے اتنا مگر
بن تیرے خالی سا دل خالی، خالی کیوں ہے؟
دل یہ جب سوز میں ہو رُکتا نہیں قلم میرا
جانے یادوں کی ترپ اِتنی سُخن ور کیوں ہے؟
بے آواز دے کے صدا اکثر یہ پلٹ آتا ہے
دلِ نادان تو کرتا یہ تماشا کیوں ہے؟
اشک برستے ہیں کیوں میرے مزار پہ آصف
جسم تو جل گیا اب راکھ سے اُلفت کیوں ہے؟
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






