مجھے رونا نہیں آتا، دکھ دھونا نہیں آتا
Poet: محمد اطہر طاہر By: Athar Tahir, Haroonabadعورت ذات ہو، تم تو چلا بھی سکتی ہو
آنسوؤں سے پتھروں کو پگھلا بھی سکتی ہو
تم تو رو بھی سکتی ہو، دکھوں کو دھو بھی سکتی ہو
میں تو مرد ہوں جاناں، مجھے رونا نہیں آتا
دکھ دھونا نہیں آتا
جب کوئی مرد روتا ہے تو زمانہ ہنستا ہے
ارے یہ مرد کیسا ہے؟ مرد ہو کے روتا ہے؟
یہ کیسے بلبلاتا ہے؟ اسے رونا بھی نہیں آتا؟
دکھ دھونا نہیں آتا
ہمیں پگھلنا بھی آتا ہے، بکھر جانا بھی آتا ہے
پروانے کی مانند ہم جو جل جانا بھی آتا ہے
ہمیں تڑپنا آتا ہے اور مرجانا بھی آتا ہے
ہمیں سسکنا تو آتا ہے، مگر رونا نہیں آتا
دکھ دھونا نہیں آتا
بھلے تم چیر کے رکھ دو تب بھی رو نہیں سکتے
موتی آنسوؤں کے ہم کبھی بھی کھو نہیں سکتے
نشانی یار کی ہیں یہ، زمیں پر بو نہیں سکتے
دکھوں کو دھو نہیں سکتے
بھلے مرنا پڑے ہم کو، ضبط کو قائم رکھتے ہیں
رونق اپنے چہرے پر بظاہر دائم رکھتے ہیں
ہم تو مرد ہیں جاناں، ہمیں رونا نہیں آتا
دکھ دھونا نہیں آتا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






