کیہ دساں میں کیہڑی گلوں جتی بازی ہار گیا
Poet: Dr.RASHEED ANWAR By: MUBASHAR ISLAM , LAHOREکیہ دساں میں کیہڑی گلوں جتی بازی ہار گیا
جیہنوں منصف پایا اوہو مینوں ہار گیا
لہو رنگا اوہ اتھرو جیہڑا پلکیں زوریں ڈگیا سی
ڈگدا ڈگدا کئی سجناں دے پیار دا بھار اتار گیا
نہر کنارے میلا لگیا لوکیں پچھدے پھردے نیں
ڈبن والا کاغذ دی اک بیڑی کاہنوں تار گیا
تیری اکھ سہارا دتا میریاں ٹٹیاں آساں نوں
تیرا اک دلاسا چناں میرا بت سار گیا
کندھاں ات ہنیرے دیاں ڈھا کے وی میں قید رہیا
چن چڑھیا تے میرے گر دے چانن کندھ اسار گیا
اک اٹی توں پیار دا سودا ایتھوں لبھنا ایں
جدھر ٹر گئے حسن دے بیوپاری اودھر اوہ بازار گیا
ایہو اک وڈیائی میری میں بوہا کھڑکایا نہیں
وچ خیالیں بھاوی اوہدے بوہے لکھا وار گیا
کوئی موت بہانہ یارو میری موت نوں ملیانہ
مینوں اپنے اندروں اٹھدا ہویا ہوکا مار گیا
پرلے پار اڈیکن والے بزدل کہہ کے ٹر گئے نیں
ارلے کنڈھے آکھن لوکیں انور پرلے پار گیا۔
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






