گائے کی یاد میں ۔۔۔
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiاِک گائے ہم بھی لائے تھے کمیٹی ڈال کے
ستر ہزار کی تھی وہ، خرچہ نکال کے
سرو سا اُس کا قد تھا اور مست چال تھی
آنکھوں میں اُس کے ڈورے تھے، یارو کمال کے
من ڈولتا تھا، کئی من گوشت دیکھ کر
منہ سے ٹپکنے لگتے تھے، قطرے بھی رال کے
کھاتے کبھی تصور میں کباب و کوفتے
دعوت کے مزے لُوٹتے، گھوڑے خیال کے
سارا پڑوس رشک سے آتا تھا دیکھنے
بچے تمام رہتے تھے، بس گھیرا ڈال کے
دو دن کے بعد گائے بہت دبلی ہو گئی
جیسے کہ اُس کو روگ ہوں کئی سال کے
جیسے کہ سامری نے کیا گوشت خرد برد
گویا کہ ہم نے پیسے دئیے تھے بس کھال کے
ڈنگر ڈاکٹر سے جو پوچھی اِس کی وجہ
بولا وہ اپنی جیب میں کچھ فیس ڈال کے
“گائے تمہاری ہو گئی ہے اِس لئے شرنک
آڑھتی نے پلایا تھا بیسن اُبال کے
اب یوں کرو کہ بیچ دو، اس گائے کو ابھی
آثار ورنہ واضح ہیں قُربِ وصال کے
دھوکہ دہی ہے آج کل منڈی میں اس قدر
کرنا یہاں بھروسہ بہت دیکھ بھال کے“
دل نے کہا کہ دھوکہ نہ دیں گے کسی کو ہم
یہ کار نہیں مومنِ خوشخصال کے
وہ گائے بقرعید سے پہلے ہی چل بسی
ہم گھومتے ہیں رسی کو گلے میں ڈال کے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






