گر کوئی کچھ کرے ہو خلافِ شرع
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbai, Indiaگر کوئی کچھ کرے ہو خلافِ شرع
یہ ضروری بھی ہے کچھ تو میں بھی کہوں
کوئی مانے نہ مانے نہ پروا مجھے
دل میرا یہ کہے کچھ تو میں بھی کہوں
یہ زمانہ تو فتنوں سے پٌر آگیا
ہر طرف دیکھو ظلم و سِتم چھاگیا
نفس کے ہی تو تابع کوئی ہو گیا
مجھ پہ لازم ہوئے کچھ تو میں بھی کہوں
کوئ شیخی بگھارے بھی اپنی کبھی
اس وجہ سے ہوا شیطاں ملعون بھی
ہو زباں پر تو کچھ اور دل میں ہو کچھ
فرض میرا بنے کچھ تو میں بھی کہوں
جس کو چاہیں کبھی وہ بچالیں اُسے
جس کو چاہیں کبھی وہ مٹادیں اٌسے
ان کی قدرت جو دیکھوں تو حیراں ہو جاؤں
من میرا گدگدائے کچھ تو میں بھی کہوں
کوئی دنیا میں آنسو بہاتا ملے
کوئی خوشیاں یہاں پر اڑاتا پھرے
بس یہی دھوپ چھاؤں لگی ہی رہے
بس اِسی کے لئے کچھ تو میں بھی کہوں
جو مصیبت میں ثابت قدم ہی رہے
کوئی نعمت ملے تو وہ شاکر رہے
اثر بھی یہ صفت سے مزیّن رہے
اُس کا جی جِھنجھوڑے کچھ تو میں بھی کہوں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






