گزرے ہیں اَس دور سے ہم بھی کبھی
Poet: UA By: UA, Lahoreگزرے ہیں اَس دور سے ہم بھی کبھی۔۔۔۔۔
جب چہرے کِھلنے لگتے ہیں مَسکان لبوں پہ سجتی ہے
آنکھوں میں دیپ چمکتے ہے موسم بہکنے لگتے ہیں
جب رَت مستانی ہوتی ہے بے باک جوانی ہوتی ہے
جب سَرخ گَلابوں کا موسم ہر رنگ سے پیارا لگتا ہے
جب تتلیوں کی شوخیاں گَلشن کو سجانےلگتی ہیں
بھنوروں کی اٹھکھیلیاں کلیوں کو لَبھانے لگتی ہیں
پھولوں سے لدی سب ڈالیاں سرخوشی سر مستی میں
کیسے لہرانے لگتی ہیں پل پل اِترانے لگتی ہیں
گزرے ہیں ہن بھی اَس دور سے کبھی۔۔۔۔۔
کوئل کی سَریلی کَوک سماعت سے ٹکراتی ہے
کانوں میں رس گھولتے چاہت کے گیت سَناتی ہے
رَوح میں اَترتی جاتی ہے دیوانہ کر جاتی ہے
سنسنی پھیلاتے ہوئے مستانہ کر جاتی ہے
جیسے شام کی بانسَری رادھا کا من بہکاتی ہے
سَندر سپنوں کی وادی میں دَور کہیں لے جاتی ہے
پل پل پیار بھرے سپنے نینوں میں بساتی ہے
گزرے ہیں ہن بھی اَس دور سے کبھی۔۔۔۔۔
انجانی سی آہٹ بھی جانی پہچانی لگتی ہے
دِل کے تاروں میں میٹھی سی گھنٹی بجنے لگتی ہے
گویا دِل کے آنگن میں کوئی محفل سجنے لگتی ہے
جب دو دِل مِل کے کِھلتے ہیں بے باک جوانی ہوتی ہے
نہ چاہتے ہوئے بھی ہونٹوں پہ جب دل کی کہانی آتی ہے
موسم بھی بہکنے لگتے ہیں رَت مستانی ہو جاتی ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






