گزر جائیں گے تیرے شہر سے یار چلتے چلتے
Poet: Khalid Pervez By: Khalid Pervez, Silakot,Saukin Windبھول کر بے وفائی تیری اور پیار چلتے چلتے
گزر جائیں گے تیرے شہر سے یار چلتے چلتے
کیا ہوا جو بجھ گیا ہے دیپ تیری محبت کا
کہا اندھیرے نے مجھے کئی بار چلتے چلتے
میری آرزو سے وابستہ ہیں خوشیاں تیری
تیری آغوش میں ٹھرے بہار چلتے چلتے
الفت کے حسیں شہر میں نظر آیا ہے اکثر
لوگ مفلس پہ ہنستے ہیں بھرے بازار چلتے چلتے
کون کہتا ہے کہ راہوں میں طوفاں روکیں گے
ہم کریں گے غم میں انہیں شمار چلتے چلتے
ہوا اگر کھبی تجھے میری چاہتوں کا احساس خالد
نہ اپنے اشکوں سے بھگونا رخسار چلتے چلتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







