گستاخ ہوئ جاتی ہے اب بادصبا بھی
Poet: FazlulHasan By: F.H.Siddiqui, Lucknow (India) ہونٹوں کا تبسم کیا جینے کی ادا بھی
اب زیست بنا تیر ے سزا بھی ہے قضا بھی
اٹکھیلی مرے یار کے آنچل سے کرے ہے
گستاخ ہوئ جاتی ہے اب باد صبا بھی
سولی پہ جہیز کی چڑھی اک اور دولھن آج
ہاتھوں سے نہ چھوٹا تھا ابھی رنگ حنا بھی
سکھیوں نے انھیں چھیڑا تھا کل لے کے مرا نام
اس بات پہ سنتے ہیں وہ خوش بھی ہیں خفا بھی
تصو یر نظر آتی تری اور بھی دلکش
بھر دیتا مصور جو ذرا رنگ وفا بھی
پرہیز ہے لا زم مگر اے شیخ سمجھ لو
کر جاتے ہیں محتاط قدم لغزش پا بھی
ساقی نے حسن آج تو ہونٹوں سے پلا دی
تلخی بھی تھی ترشی بھی تھی مستی بھی نشہ بھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






