گلابی شام میں رنگوں کی کہکشاں بن کر
Poet: Abida Taqi By: Shazia Hafeez, Attockگلابی شام میں رنگوں کی کہکشاں بن کر
نظر اُٹھی میرے جذبوں کی ترجماں بن کر
وہ سحر تھا کہ کوئی ساز اس کی قربت کا
کہ نغمہ خواں ہوئی دھڑکن بھی داستان بن کر
میں اس میں روئے بہاران تلاشتی ہی رہی
جو صحن دل کو بھسم کر گیا خزاں بن کر
میں جس شجر سے بھی رنگ حیات پانے گئی
شکار برق پتاں ہو گیا دھواں بن کر
شدید چاہ ہے سائے میں اپنے بیٹھی رہوں
پر اگلے پل ملے گا عذاب جاں بن کر
یہ بندشوں کے نگر میں نحن دری کا جنوں
ہیں گفتگو میں تخیل میری زباں بن کر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






