گلدستہ محبت کا غزل

Poet: زوہیب سرور By: Zohaib sarwar , Sargodha

گلدستہ محبت کا مرے ساتھ ہے
الفت تم سے ایسی پکڑ کر ہاتھ ہے

تم سے ملکر الگ احساس جاناں
لگتا ہے باغ گلاب مرے ساتھ ہے

میں نے حقیقت میں جانا کچھ
پکڑا تیرا ہاتھ لگا مہتاب مرے ساتھ ہے

تم نے کہا ہلنا مت میں نے جنبش نہ کی
ڈر لگا بہت لیکن کہا جناب مرے ساتھ ہے

زیب فطرت میں ہی محبت مری
تو شروع سے ہی بے وفا کہ ساتھ ہے

مومن زمانے میں آینہ نہیں دیکھتا
بکھرے بالوں میں حیوانیت اسکے ساتھ ہے

Rate it:
Views: 0
02 Oct, 2026
More Love / Romantic Poetry