گلوں سا چہرہ، گیسو و رُخسارِ یار
Poet: Khan Muhammad Imran - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarدیکھئے اب تک ہے دل اپنا بے قرار
بھول گئے آپ تو وہ عہد وہ قرار
اپنا تو ہر اِک پل تیری ہی یاد میں گُزرا
دل کو تو میرے اب بھی ہے ملنے کا اصظرار
عالم میں صرف تجھ کو ہی دیکھوں میں ہر طرف
ہم کو بھی ملا دیکھئے یہ کیسا روزگار
جانا کون چاہے تیری دلکش بزم سے
گلوں سا چہرہ، گیسو و رُخسارِ یار
ہم اپنے رنج و غم شاّئد بھول جائینگے
پر تیرے شباب کی ہمیں بھولے گی نہ بہار
حسرت ہے صرف اتنی سے میں تُجھ کو دیکھ لوں
اور آنکھیں ملا کے تجھ سے کروں عشق کا اظہار
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






