گلوں میں کوئی گلزار میں غرق
Poet: ZIA ULLAH TAHIR By: ZIA ULLAH TAHIR, ISLAMABAD.گلوں میں کوئی گلزار میں غرق
میں فقط کوچہ یار میں غرق
شیدائے شراب و کباب ہیں لوگ
میں تیرے چشم خمار میں غرق
ہم ہوئے آتش فراق میں راکھ
تم ٹھہرے محفل اغیار میں غرق
دیتے کس طرح ، دلاسہ دل کو
جو ہے تیرے ، انکار میں غرق
ٹھہرے جو ہم ، خزاں کے پروردہ
کیا غرض ، ہے کون بہار میں غرق
دریا نہ سمندر ، ڈبو سکا ہمیں
رہے تا مرگ گل عذار میں غرق
فکر عقبیٰ کچھ تو چاہئے غافل
کب تک حیات مستعار میں غرق
واسطہ جب سے پڑا ان سے طاہر
ہوئے جاتے ہیں خس و خار میں غرق
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






