گل و خوشبو اور چمن کا افسانہ لکھ دوں
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Syed Waqas Shah, rawalpindiگل و خوشبو اور چمن کا افسانہ لکھ دوں
تیری صورت کا عکس سارا زمانہ لکھ دوں
لکھنا چاہوں تو صنم سے حرم تک لکھ دوں
مجھ کو ڈر ہے کہ حقیقت کو نہ افسانہ لکھ دوں
ہیرے موتی کی سمندر میں حقیقت لکھ دوں
جو تیری آنکھوں کا انمول خزانہ لکھ دوں
شب وصل بھی اس سناٹے کی اسیر ہوئی
دل نے چاہا تیری زلف کو مرگ بہانہ لکھ دوں
تم ہی منکر ہو جو عداوت میں بٹے ہو موگو
ایک آدم سے بھلا کس کس کو بیگانہ لکھ دوں
تیرے بعد میرے در کی یہ حالت ہو گئی
بارہا چاہا اسے میں نے ویرانہ لکھ دوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






