گم صُم ہوا،آواز کا دریا تھا جو اک شخص پتھر بھی نہیں اب وہ،ستارہ تھا جو اک شخص
Poet: محسن نقوی By: اسامہ نثار, Faisalabadگم صُم ہوا،آواز کا دریا تھا جو اک شخص
پتھر بھی نہیں اب وہ،ستارہ تھا جو اک شخص
شاید وہ کوئی حرفِ دعا ڈھونڈ رہا تھا
چہروں کو بڑے غور سے پڑھتا تھا جو اک شخص
صحرا کی طرح دیر سے پیاسا تھا وہ شاید
بادل کی طرح ٹوٹ کے برسا تھا جو اک شخص
اے تیز ہوا کوئی خبر اس کے جنوں کی
تنہا سفر شوق پہ نکلا تھا جو اک شخص
اب آخری سطروں میں کہیں نآم ہے اس کا
احباب کی فہرست میں پہلا تھا جو اک شخص
ہاتھوں میں چھپائے ہوئے پھرتا ہے کئی زخم
شیشے کے کھلونوں سے بہلتا تھا جو اک شخص
مڑ مڑ کے اسے دیکھنا چاہیں مری آنکھیں
کچھ دور مجھے چھوڑنے آیا تھا جو اک شخص
اب اس نے بھی اپنا لیے دنیا کے قرینے
سائے کی رفاقت سے بھی ڈرتا تھا جو اک شخص
ہر ذہن میں کچھ نقش وفا چھوڑ گیا ہے
کہنے کو بھرے شہر میں تنہا تھا جو اک شخص
منکر ہے وہی اب مری پہچان کا محسن
اکثر مجھے خط خون سے لکھتا تھا جو اک شخص
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






