گوجرانوالہ میں دہشت گردی پر
Poet: Shama Ansari By: Shama, Gujranwalaدہشت گردوں نے ستم کیا یہ ڈھایا ہے
لوگوں پہ تو جیسے خوف و ہراس چھایا ہے
میرے گھربار کی فضا آج گرد آلود ہے
سوچ کسی کی ہوئی جو نیست و نابود ہے
“ کارکردگی“ یہ کسی بے حس کی ہے
میرے شہر کو نظر لگی یہ کس کی ہے
اُتارو نظر گھر بار کی سماں خوشگوار ہو
میرے مولا بندہ تیرا پھر کوئی نیک نمودار ہو
کرے اُن سب کا جو حال تمام خوب
جال جنہوں نے مل کر یہ بچھایا ہے
پل بھر میں مسکراتے چہروں کو سوگوار بنایا ہے
کسی آباد گھر کو آج ماتم کدہ بنایا ہے
ناز تھا مجھے تو سب کی یکجہتی پر مگر افسوس
آج اپنا ہی کوئی ایمان بیچ آیا ہے
دہشت گردوں نے تو اپنا کام کر دکھایا ہے
کہ آج اپنا بھی لگنے لگا ہر اک پرایا پے
اسی دن بارے دوست احباب باتیں کرتے تھے
میرے شہر کی تاریخ میں لمحہ کرب کا یہ جو آیا ہے
اب کے بار زندگی نے بھی ساتھ خوب نبھایا ہے
واسطے خود کش حملے کے بچہ کوئی معصوم ہاتھ نہ انکے آیا ہے
میرے اللہ انکو ہمیشہ ایسے ہی منہ کی کھانی پڑے
ظلم یہ جنہوں نے میرے پاکستان پہ بار بار ڈھایا ہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






