گُلدستئہ اشعار
Poet: Javed Akhtar By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIان چراغوں میں تیل ہی کم تھا
کیوں گِلہ پھر ہمیں ہَوا سے رہے
میرے کچھ پَل مجھ کو دے دو باقی سارے دن لوگو
تم جیسا جیسا کہتے ہو سب ویسا ویسا ہو گا
میری بنیادوں میں کوئی ٹیڑھ تھی
اپنی دیواروں کو کیا الزام دوں
تھکن سے چُور پاس آیا تھا اس کے
گِرا سوتے میں مجھ پر یہ شجر کیوں
تمہیں بھی یاد نہیں اور میں بھی بُھول گیا
وہ لمحہ کتنا حسیں تھا مگر فضول گیا
ان سے اب واپس خریدوں خود کو میں
لوگ جو مانگیں وہ اپنے دام دوں
اِک کھلونا جوگی سے کھو گیا تھا بچپن میں
ڈھونڈتا پھِرا اس کو وہ نگر نگر تنہا
آگہی سے ملی ہے تنہائی
آ میری جان مجھ کو دھوکا دے
رات سر پر ہے اور سفر باقی
ہم کو چلنا ذرا سویرے تھا
سب ہَوائیں لے گیا میرے سمندر کی کوئی
اور مجھ کو ایک کشتی بادبانی دے گیا
پہلے بھی کچھ لوگوں نے جَو بو کر گیہوں چاہا تھا
ہم بھی اس اُمیّد میں ہیں لیکن کب ایسا ہوتا ہے
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






