گِلہ نہ دل میں رکھا کیجے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadہم سے کوئی گِلہ نہ دل میں رکھا کیجے
جو بات دل میں ہو وہ برملہ کہا کیجے
وفا کا پاس لازم ہے زمانے کی فکر نہیں
لوگ کہاں چُپ رہتے ہیں، نہ سُنا کیجے
وفا کے پُرخار رستوں پر جو ساتھ نہ دیں
زرا دُور پرے ایسے اپنوں سے رہا کیجے
جو دُھوپ چھاؤں کے سفر میں ساتھ رہتے ہوں
اُن بے لوث رشتوں کو پل میں نہ توڑا کیجے
اب ہیں آنکھ میں آنسو اور دل میں دبی آہیں
کس نے کہا تھا آپ سے محبت کی خطا کیجے
یہ نہ ہو کہ ہم اِس خوشی سے ہی گُزر جائیں
یوں ہنس کے بار بار ایسے نہ دیکھ کیجے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






