گھر بھر کی آنکھوں کے تارے چھوٹے چھوٹے بچے
Poet: UA By: UA, Lahoreننھے منے پیارے پیارے چھوٹے چھوٹے بچے
گھر بھر کی آنکھوں کے تارے چھوٹے چھوٹے بچے
ان کے دم سے گھر کی رونق ان کے دم سے رحمت
جس گھر میں ہوں چھوٹے بچے اس گھر میں ہو برکت
ان کے دم سے خوشیاں ہیں ان کے دم سے راحت
بچے نہ ہوں گھر میں تو کس کام کی خالی دولت ہے
گھر بھر کے ہیں راج دلارے چھوٹے چھوٹے بچے
گھر بھر کی آنکھوں کے تارے چھوٹے چھوٹے بچے
سندر سندر من موہنے معصوم نگاہوں والے
ضدی بچوں کی ضد کے بھی ہیں انداز نرالے
جانتا ہے وہ جس نے بچے لاڈ پیار سے پالے
دل کے نازک ہوتے ہیں یہ بچے بھولے بھالے
چندا ماما سے بھی پیارے چھوٹے چھوٹے بچے
گھر بھر کی آنکھوں کے تارے چھوٹے چھوٹے بچے
آنکھوں میں شرارت ان کی ہونٹوں پہ مسکانیں
گھر والوں کو بھاتی ہے ان کی یہ عادت جانیں
اپنے من کی سنتے ہیں یہ کسی کی بات نہ مانیں
منواتے ہیں اپنی ہر بات ہم مانیں یا نہ مانیں
واہ واہ واہ واہ واہ رے واہ رے چھوٹے چھوٹے بچے
گھر بھر کے ہیں راج دلارے چھوٹے چھوٹے بچے
پھولوں جیسے نرم و نازک رنگوں سے رنگیں
والدین کو لگتے ہیں یہ ہر شے سے حسین
شفقت سے چومیں جب ان کا چہرہ اور جبین
خوشی سے ہو جاتے ہیں بچے اور بھی حسین
ہوں تمہارے یا ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے
گھر بھر کی آنکھوں کے تارے چھوٹے چھوٹے بچے
ننھے منے پیارے پیارے چھوٹے چھوٹے بچے
گھر بھر کی آنکھوں کے تارے چھوٹے چھوٹے بچے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






