گیت
Poet: NADEEM MURAD By: ندیم مراد, umtata RSAاردو شاعری کی لطیف صنف گیت، گیت کا بھی غزل کی طرح کوئی عنوان نہیں ہوتا وہ اپنے مزاج، آہنگ اور مضامین سے پہچانا جاتا ہے۔ ایک گیت پیش خدمت ہے۔
سانسوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
باتوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
موسم تو آتے ہیں سردی بھی آتی ہے
شہروں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
یخ بستہ سردی کیا ہے، گر ہو ملنا طے
گلیوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
الفت میں ٹوٹے دل ٹھنڈے بھی پڑ جائیں
سینوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
منزل کی جانب سب چلتے ہیں تیزی سے
جزبوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
بارش میں بھیگے تو ٹھنڈی ہو ہر اک شئے
جسموں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
دیکھی ہے چھپ چھپ کر میں نے تو وہ لڑکی
پردوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
کہتی ہے مجھ سے یہ سردی کی ٹھنڈک بھی
دونوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
پھولوں پر بھنورے جو دیکھیں تو بڑھنے کی
کلیوں میں انجانی سی گرمی رہتی ہے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






