ھاتھوں میں نہ دینا ھاتھہ گوری
Poet: Dr Qamar Siddiqui By: Dr Qamar Siddiqui, Kharianھاتھوں میں نہ دینا ھاتھ گوری
سن لینا میری بات گوری
پیت کا کھیل انوکھا ھے
یاں قدم قدم پر دھوکا ھے
ماں باپ کا نام گنوائے گی
تو پھر بیٹھی پچھتائے گی
ھاتھوں میں نہ دینا ھاتھ گوری
سن لینا میری بات گوری
لیلائیں ۔ سسیاں اور ہییریں
ھیں اب بھی وفا کی تصویریں
یہ رانجھے ، پنل اور مجنوں
کرتے ھیں وفا کا اب کے خوں
ھاتھوں میں نہ دینا ھاتھ گوری
سن لینا میری بات گوریط
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






