ھمیں ساتھہ ساتھہ چلنا تھا
Poet: JAAN-E-WASHMA By: WASHMA KHAN, MOSCOWھمیں ساتھہ ساتھہ چلنا تھا
ساتھہ ساتھہ رہنا تھا
ھمیں ایک گھر بنانا تھا
مجھکو جس کو ساجن کہکر پکارنا تھا
مجھے دروازے پر تیرا انتظار کرنا تھا
اگر تم دیر سے آتے تو مجھے روٹنا تھا
تم مجھکو مناتے میں مان جاتی
میں دھیرے دھیرے ہنستی
تماری آنکھوں میں دیکھتی
بہت سی آنکہی باتوں کو ھم نے الفاظ دینے تھے
بارش کے موسم میں تمارے ساتھہ بیگنا تھا
چاند رات کو چاند اور تمیں
دونوں کو ساتھہ دیکھنا تھا
کاش ایسا ممکن ھوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






