ھم تجھے چھو نہ سکیں پر ڈھونڈے جائیں
Poet: Pasha By: Pasha Mubeen, Maidenheadھم تجھے چھو نہ سکیں پر ڈھونڈے جائیں
ھم تجھے ڈھونڈ نہ پائیں پر پکارے جائیں
تو ھمیں سن کہ چپ رھے اور ھم پھر بھی
سن کہ اندھیروں میں دھنئیں تیرے جوبن کی
بے خودی میں ھم دیر تلک ناچے جائیں
پڑھ کہ حیرت سے صحیفے تیرے جلووں کے
رازوں کو تیرے ھم کبھی کھول نہ پائیں
کر کے طے فاصلے صدیوں کے، چند لمحوں میں
خود کو ھم تنہا، کبھی حیراں، بھی عریاں پائیں
کر کے تعمیر مکاں اپنا خود ھی کانٹوں سے
خاموش ندامت میں خود ھی ھم راحت پائیں
جب کبھی بادِ صبا بن کے ھم جو چومیں تیری گلیوں کو
خود کو پھر دھواں بن کہ فضائوں کا تیری اڑتے دیکھیں
بن کہ اک موج سمندر کی، ھم جو ٹکرائیں تیرے ساحل سے
خود کو یوں ریت پہ تیری، اک جھاگ سی بنتی دیکھیں
شعلہ بن کے ھم جو کبھی بھڑکنا چاھیں
خود کو اک قطرہ تیری بارش کا بنتے دیکھیں
رقابت میں تیری، جدا ھو کہ جو تجھ سے جینا چاھیں
مر مر کے جیئں پر خود کو نہ جیتے جی پائیں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






