ھم تجھے چھو نہ سکیں پر ڈھونڈے جائیں
Poet: Pasha By: Pasha Mubeen, Maidenheadھم تجھے چھو نہ سکیں پر ڈھونڈے جائیں
ھم تجھے ڈھونڈ نہ پائیں پر پکارے جائیں
تو ھمیں سن کہ چپ رھے اور ھم پھر بھی
سن کہ اندھیروں میں دھنئیں تیرے جوبن کی
بے خودی میں ھم دیر تلک ناچے جائیں
پڑھ کہ حیرت سے صحیفے تیرے جلووں کے
رازوں کو تیرے ھم کبھی کھول نہ پائیں
کر کے طے فاصلے صدیوں کے، چند لمحوں میں
خود کو ھم تنہا، کبھی حیراں، بھی عریاں پائیں
کر کے تعمیر مکاں اپنا خود ھی کانٹوں سے
خاموش ندامت میں خود ھی ھم راحت پائیں
جب کبھی بادِ صبا بن کے ھم جو چومیں تیری گلیوں کو
خود کو پھر دھواں بن کہ فضائوں کا تیری اڑتے دیکھیں
بن کہ اک موج سمندر کی، ھم جو ٹکرائیں تیرے ساحل سے
خود کو یوں ریت پہ تیری، اک جھاگ سی بنتی دیکھیں
شعلہ بن کے ھم جو کبھی بھڑکنا چاھیں
خود کو اک قطرہ تیری بارش کا بنتے دیکھیں
رقابت میں تیری، جدا ھو کہ جو تجھ سے جینا چاھیں
مر مر کے جیئں پر خود کو نہ جیتے جی پائیں
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






