ھم سے بچھڑو گے تو کہیں اور نہ جا پاؤ گے
Poet: R.K Jazeb By: R.K Jazeb, Jeddahھم سے بچھڑو گے تو کہیں اور ناں جا پاؤ گے
خاک ھو جاؤ گے مگر ھم کو ناں بھلا پاؤ گے
میں نے جکڑا ھے تمہیں اپنے جنوں میں ایسے
میرے ہاتھوں کی لکیروں سے نہ مٹ پاؤ گے
میرے جزبوں کی حقیقت کو سمجھ لو تم اگر
پھران بے خواب نگاھوں کو ناں سلا پاؤ گے
راہ عشق کانٹوں کا مسکن ھے کوئی پھول نہیں
پتھروں کی راہیں ہیں یہاں مر کے بھی نہ گزر پاگے
میرے زخموں کا مداوا بھی کرو تو کیا حاصل
تم اس جدائی کے سبب کو ناں سہہ پاؤ گے ۔۔۔۔۔۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






