ھم نے پکارا ابھر ابھر کر
Poet: M. Habibullah Rajput By: Prof. Dr. M. Habibullah Rajput , UKھم نے پکارا ابھر ابھر کر
ڈوبا کنارا ابھر ابھر کر
ساتھ رہا عمر بھر اپنے
مقدر کا ستارہ ابھر ابھر کر
میرے نام کے ساتھ آتا رہا
اک نام تمھارا ابھر ابھر کر
اور انداز الفت سکھلاتا رہا
یہ دل بے چارہ ابھر ابھر کر
میری آنکھوں میں اترا آخر شب
ایک حسین نظارہ ابھر ابھر کر
عشق کے سبھی صحفوں میں
رھے نام ھمارا ابھر ابھر کر
حبیب ظلمتوں میں راہ دکھلا گیا
تیرے نور کا اشارہ ابھر ابھر کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






