ھم کو تیرے حسن کا وە زمانہ یاد ھے
Poet: Qasim Baba By: Qasim Baba, Slough, Londonھم کو تیرے حسن کا وە زمانہ یاد ھے
بھول کر بھی تجھ کو جاں نە بھول پانا یاد ھے
وە عقیدت تھی جسے کہتے تھے سب دیوانگی
میرا ننگے پاوٴں تیرےشہر آنا یاد ھے
غم اُٹھائے جس نے دل پہ اور آە تک نہ کی
کیا تمھیں بھی اے حسیں وە دیوانە یاد ھے
وە صبح کو ایک ساتھ سورج نکلتے دیکھنا
اور پھر آوارگی میں دن بیتانا یاد ھے
جان لے نہ کوئی اپنے عشق کی ناکامیاں
دل میں چھپا کر درد کو مسکرانا یاد ھے
یاد ھے قاسم مجھے آوارگی کی داستاں
ھم جہاں ملتے تھے وە کھنڈر پرانا یاد ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






