ہائےمحبت تری دل میں ہےاسےتو دھو بھی نہیں سکتا
Poet: Humaira Hammad By: Humaira Hammad, Gujranwalaتر ےزخم حاصل ہیں زیست کا,انہیں کھو بھی نہیں سکتا
گھٹ گھٹ کر جیتاہوں,زمانےکےسامنےروبھی نہیں سکتا
توامیرشہرکی بیٹی ہےخواب دیکھتی ہےنت نئےجان تمنا
میں مزدور کی اولاد ہوں سکون سے سو بھی نہیں سکتا
مجھ سے ملنےآیا کسی او ر کانام اپنے نا م سے جوڑ کر
آہ!وہ شخص کہتاتھاترےسواکسی اورکاہوبھی نہیں سکتا
اتنی بےدردی سےتوڑا تو نے اعتماد مرا محبتوں سےظالم
اجڑنےکے خوف سےمیں تعلق کےبیج بو بھی نہیں سکتا
وہ خط ترے وہ تحفے ترے سب جلا دیے میں نے حمیرا
ہائےمحبت تری دل میں ہےاسےتو دھو بھی نہیں سکتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






