ہار تو وہ کہ جو جیت کو رسوا کر دے
Poet: syed hammad raza naqvi By: syed hammad raza naqvi, Faisalabadسو بار ہے مانگا دشت تنہائی مے تجھے
اک بار تو تو بھی میرے حق مے دعا کر دے
مانا کہ تقاضہ آرزو مے ہے ناکام عشق مرا
مگر ہار تو وہ کہ جو جیت کو رسواہ کر دے
مہمان باد صبا نہی رکھتا جزا وار جو ہوں
بن جاؤں ہمراہ تیرا اتنا تو مجھ عاجز کو عطا کر دے
طلبگاری گوہر آدم سے نہ رکھ اے کوہ طور
یہ وہ انسان زمانہ ہے جو پتھر کو خدا کر دے
عالم کو ملے علم تو حاکم کو حکومت ہے رضا
یہ وہ مغرور تمنا ہے کہ جو زاہد کو فنا کر دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






