ہاں تم سے محبت ہے۔۔اظہار سے کیا پردہ؟
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillہاں تم سے محبت ہے ،اظہار سے کیا پردہ؟
الجھا ہوں جفاؤں میں، اقرار سے کیا پردہ
دیکھا جو حسن نازاں،سب راز ہوئے افشا
سینے میں لہو بولا۔۔ تلوار سے کیا پردہ؟
ہے پیش نظر جو بھی لمحوں کو عطا کر دو
اے شوق ! غم راہ دشوار سے کیا پردہ؟
منصور کی صورت ہے لفظوں سے وفا اپنی
تائید انا الحق ہوں ، اب دار سے کیا پردہ؟
جھکتی ہوئی جبیں کا پیغام خودی دیکھو
ہے جیت سبھی حاصل پھر ہار سے کیا پردہ؟
ہر ایک نبض پر ہے اک دسترس تمہاری
اے دست مسیحائی، بیمار سے کیا پردہ؟
برسے گی جب بھی بارش ہر ایک پہ برسے گی
بوندوں کی راوانی کو اغیار سے کیا پردہ؟
لہجے کی ہر تھکاوٹ،جزبوں کی ہر اٹھاوٹ
دیوار سے کہہ ڈالو۔۔ دیوار سے کیا پردہ؟
وہ ان کہی سی باتیں ،ٹھہری ہیں جو گماں میں
کہہ دو ناں چپکے چپکے ،اشعار سے کیا پردہ؟
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






