ہاں مجھے یاد ہے وہ سب ذرا ذرا
Poet: اخلاق احمد خان By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachiہاں مجھے یاد ہے وہ سب ذرا ذرا
ہاں مجھے یاد ہے وہ سب ذرا ذرا
یونہی بے سبب روٹھ جانا تیرا
غصّے میں گردن کو جھٹکانا تیرا
مجھے الجھنوں میں الجھانا تیرا
رازِ دل زباں پر نہ لانا تیرا
مزاج تھا ظالمانہ تیرا
مجھے کر گیا جو دیوانہ تیرا
بس تجھے دیکھا کرتا میں کھڑا کھڑا
ہاں مجھے یاد ہے وہ سب ذرا ذرا
یاں مجھے یاد ہے وہ سب ذرا ذرا
وہ تیرانگاہوں میں سمیٹنا
بہانے بہانے سے دیکھنا
مجھے باتوں باتوں میں کریدنا
کسی چھوٹی بات کو لے بیٹھنا
تجھ کومنانے کو پھول بھیجنا
غضب ہوتا تیرا اسے پھینکنا
وہیں سوکھ جاتا وہ پڑا پڑا
ہاں مجھے یاد ہے وہ سب ذرا ذرا
ہاں مجھے یاد ہے وہ سب ذرا ذرا
پھر جانے کیا وقت کی تلوار کرگئی
میٹھی میٹھی چُبن سا وار کرگئی
رنگیں زندگی کو بہار کرگئی
محبت دِلوں میں بیدار کرگئی
دل کے ویرانوں کو گلزار کرگئی
گویا کہ ادا اپنا کردار کرگئی
وہ ہر لمحہ چاہت سے بھرا بھرا
ہاں مجھے یاد وہ سب ذراذرا
ہاں مجھے یاد ہے وہ دب ذرا ذرا
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






