ہاں میں نے محبت کی ہے
Poet: شاعر شبیر منظر By: شاعر شبیر منظر, mianwaliبارہا ظلم سہے پھر بھی عبادت کی ہے
وقت مشرق سے سرعام عداوت کی ہے
لوگ رکھتے تھے جہاں نام محبت پے گناہ
اس پے تنقید کی جب آج وضاحت کی ھے
قافلے یورش عصیاں میں ڈھونڈھتے ہیں مجھے
پوچھتے ہیں وہ کہاں؟جس نے حماقت کی ھے
تیغ ہر سمت سے برساۓ گۓ پھر بھی وضو
تیری آنکھوں کا تھا چہرے کی تلاوت کی
قید کر کے مجھے ذندان ابتلاء میں محض
ایک مجرم کے کئ بار قساوت کی ھے
پیار کا نام نہ لے بھول جا شبیر مگر
لب پے اک حرف تھا ہاں مینے محبت کی ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






